2008 اپریل 18

سُوۡرَةُ إبراهیم

سُوۡرَةُ إبراهیم
أَلَمۡ تَرَ كَيۡفَ ضَرَبَ ٱللَّهُ مَثَلاً۬ كَلِمَةً۬ طَيِّبَةً۬ كَشَجَرَةٍ۬ طَيِّبَةٍ أَصۡلُهَا ثَابِتٌ۬ وَفَرۡعُهَا فِى ٱلسَّمَآءِ (٢٤) تُؤۡتِىٓ أُڪُلَهَا كُلَّ حِينِۭ بِإِذۡنِ رَبِّهَا‌ۗ وَيَضۡرِبُ ٱللَّهُ ٱلۡأَمۡثَالَ لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمۡ يَتَذَڪَّرُونَ (٢٥)

کیا تم نے نہیں دیکھا کہ خدا نے پاک بات کی کیسی مثال بیان فرمائی ہے (وہ ایسی ہے) جیسے پاکیزہ درخت جس کی جڑ مضبوط (یعنی زمین کو پکڑے ہوئے) ہو اور شاخیں آسمان میں (۲۴)
اپنے پروردگار کے حکم سے ہر وقت پھل لاتا (اور میوے دیتا) ہو۔ اور خدا لوگوں کے لیے مثالیں بیان فرماتا ہے تاکہ وہ نصیحت پکڑیں (۲۵)


تفصیر
الللھ کی پاک بات کلکھ طیبھ کی مثال ہے پاک درخت، شجرہ طیبھ پاک شجرہ، جس کی مضبوط جڑ الللھ کی ذات ہے، جو کہ پوشیدہ ہے، پھر ذات محمد ۖ ہے، جو ظاہر اور باطں دونوں ہے۔ شجر کا تنا علی کی ذات ہے۔ شاخیں معصومیں۔ اور پھل فاطمہ ہیں۔

کوئی تبصرے نہیں: