2008 اپریل 29

منجا نب ڈاکٹر کاشف

Mujh ko apny hazoor rehny do
مجھ کو اپنے حضور رہنے دو
Kuch mera bhi gharoor rehny do
کچھ میرا بھی غرور رہنے دو
Muskurahat na rokna apni
مسکراہٹ نا روکنا اپنی
Meri aankhon main noor rehny do
میری آنکھوں میں نور رہنے دو
Raaston ka khumaar kafi hai
راستوں کو خمار کافی ہے
Manzilon ka saroor rehny do
منزلوں کا صرور کافی ہے
Har khatta ki sazaa nahi lazim
ہر خطا کی سزا نہیں لازم
Kuch to mera qasoor rehny do
کچھ تو میرا قصور رہنے دو
Tootany main ajeeb lazzat hai
ٹوٹنے میں بھی عجیب لزت ہے
Tum mujh ko chakna choor rehny do
تم مجھے چکنا چور رہنے دو

ہم دیکھیں گے | We shall see | Hum Dekhein gay

Artist: Iqbal Bano
Writer: Faiz Ahmad Faiz
آرٹسٹ: اقبال بانو
شاعر: فیض احمد فیض
Hum Dekhein gay
Hum Dekhein gay

Lazim hein k Hum Dekhein gay
Who din ke jiska wada hay
Jo loh e azal mein likha hay
Hum dekhein gay
Lazim hein k Hum Dekhein gay
Who din ke jiska wada hay


Jub zulm o sitam k koh e garan
roi ki tarah urr jain gay
Jub zulm o sitam k koh e garan
roi ki tarah urr jain gay

Hum mehkoomon ke paaon tale
ye dharti dhahr dharh dharke gi
Aur ahle hakam ke sir oper
Jub bijli kar kar karke gi

Lazim hein k Hum Dekhein gay

Jub zulm o sitam ke koh e garan
roi ki tarah ur jain gay
Roi ki tarah ur jain gay
Hum mehkoomon ke paaon tale
ye dharti dhahr dharh dharke gi
Aur ahle hakam ke sir oper
Jub bijli kar kar karke gi


Hum Dekhein gay
Hum Dekhein gay
Hum Dekhein gay

Jub arz e khuda ke kaabay se
sub butt uthwai jain gay
Hum ahle safa, mardood e haram
Masnad pe bithai jain gay
sub taj uchale jain gay
Sub takht giray jain gay
Hum dekhien gay
Bus naam rahe ga Allah ka
Jo ghaib bhi hay hazir bhi
Jo nasir bhi hay mansir bhi
Uthay gay unal Haq ka nara
JO mein bhi hon aur tum bhi ho
aur raj kare gi khalq e khuda
JO mein bhi hon aur tum bhi ho

Hum dekhien gay
Bus naam rahe ga Allah ka
Jo ghaib bhi hay hazir bhi
Jo nasir bhi hay mansir bhi
Uthay gay unal Haq ka nara
Jo mein bhi hon aur tum bhi ho
aur raj kare gi khalq e khuda
Jo mein bhi hon aur tum bhi ho

ہم دیکھیں گے
ہم دیکھیں گے

لاظم ہے کہ ہم دیکھیں گے
وہ دن کہ جس کا وعدہ ہے
جو لوہ ازل میں لکھا ہے
ہم دیکھیں گے
لاظم ہے کہ ہم دیکھیں گے
وہ دن کہ جس کا وعدہ ہے


جب ظلم و ستم کے کوہ گرم
روئی کی طرح اڑ جائیں گے
جب ظلم و ستم کے کوہ گرم
روئی کی طرح اڑ جائیں گے

ہم محکوموں کے پائوں تلے
یہ دھرتی دھڑ دھڑ دھڑکے گی
اور اہل حکم کے سر اوپر
جب بجلی کڑ کڑ کڑکے گی

لاظم ہے کہ ہم دیکھیں گے
جب ظلم و ستم کے کوہ گرم
روئی کی طرح اڑ جائیں گے
روئی کی طرح اڑ جائیں گے
ہم محکوموں کے پائوں تلے
یہ دھرتی دھڑ دھڑ دھڑکے گی
اور اہل حکم کے سر اوپر
جب ظلم و ستم کے کوہ گرم


ہم دیکھیں گے
ہم دیکھیں گے
ہم دیکھیں گے


جب ارض خدا کے کعبے سے
سب بت اٹھوائے جائیں گے
ہم اہل صفی'، مردود حرم
مصند پےبٹھائیں جائیں گے
سب تاج اچھالے جائیں گے
سب تخت گر‏آئے جائیں گے

ہم دیکھیں گے
بس نام رہے گا الللھ کا
جو غائب بھی ہے حاظر بھی
جو ناصر بھی ہےمنصور بھی
اٹھیں گے انل حق کے نعرے
جو میں بھی ہوں اور تم بھی ہو
اور راج کرے گی خلق خدا
جو میں بھی ہوں اور تم بھی ہو

ہم دیکھیں گے
بس نام رہے گا الللھ کا
جو غائب بھی ہے حاظر بھی
جو ناصر بھی ہےمنصور بھی
اٹھیں گے انل حق کے نعرے
جو میں بھی ہوں اور تم بھی ہو
اور راج کرے گی خلق خدا
جو میں بھی ہوں اور تم بھی ہو

We shall see

It is a must that we shall see
The day that has been prophesized
The one written on the Tablet of Fate

We shall see

When the insurmountable mountains of oppression
Shall blow as if cotton flakes
And beneath the feet of us common folk
This land will throb with a deafening sound
And upon the heads of the despotic folk
Lightening will strike a thundering pound.

We shall see

When from the Palace of our Lord
All earthly gods will be taken out
We, righteous ones, outcasts of Church,
shall don a glorious robe, no doubt.
All crowns will fly
All thrones will fall

We shall see

Only the name of the Lord will stay on
who is unseen, yet ever seeing
who is the sight, as well as the scene
The shout of "I am The Truth"* shall rise
which is true for you and I
and the creation of the Lord will rule
which is true for you and I.

We shall see

It is a must that we shall see

We shall see

---------
Lyrics Contributed By: Abdullah Khan(Urdu:Roman) Omer(English) Faraz Ahmad(URDU)
----------

2008 اپریل 18

سُوۡرَةُ إبراهیم

سُوۡرَةُ إبراهیم
أَلَمۡ تَرَ كَيۡفَ ضَرَبَ ٱللَّهُ مَثَلاً۬ كَلِمَةً۬ طَيِّبَةً۬ كَشَجَرَةٍ۬ طَيِّبَةٍ أَصۡلُهَا ثَابِتٌ۬ وَفَرۡعُهَا فِى ٱلسَّمَآءِ (٢٤) تُؤۡتِىٓ أُڪُلَهَا كُلَّ حِينِۭ بِإِذۡنِ رَبِّهَا‌ۗ وَيَضۡرِبُ ٱللَّهُ ٱلۡأَمۡثَالَ لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمۡ يَتَذَڪَّرُونَ (٢٥)

کیا تم نے نہیں دیکھا کہ خدا نے پاک بات کی کیسی مثال بیان فرمائی ہے (وہ ایسی ہے) جیسے پاکیزہ درخت جس کی جڑ مضبوط (یعنی زمین کو پکڑے ہوئے) ہو اور شاخیں آسمان میں (۲۴)
اپنے پروردگار کے حکم سے ہر وقت پھل لاتا (اور میوے دیتا) ہو۔ اور خدا لوگوں کے لیے مثالیں بیان فرماتا ہے تاکہ وہ نصیحت پکڑیں (۲۵)


تفصیر
الللھ کی پاک بات کلکھ طیبھ کی مثال ہے پاک درخت، شجرہ طیبھ پاک شجرہ، جس کی مضبوط جڑ الللھ کی ذات ہے، جو کہ پوشیدہ ہے، پھر ذات محمد ۖ ہے، جو ظاہر اور باطں دونوں ہے۔ شجر کا تنا علی کی ذات ہے۔ شاخیں معصومیں۔ اور پھل فاطمہ ہیں۔

2008 اپریل 17

منجا نب ڈاکٹر کاشف

دوستی کھلتے پھولوں کی خشبو میں ہے

دوستی سورج کی کرنوں میں ہے

دوستی ہر نۓ دن کی امید ہے

دوستی خواب ہے، دوستی جیت ہے

دوستی پیار ہے، دوستی گیت ہے

دوستی دو جھانوں کا سنگیت ہے

دوستی اگاہی روشی بندگی

دوستی سنگ چلتے ہواوں میں ہے

دوستی ان برستے گھٹاوں میں ہے

دوستی دوستوں کی وفاوں میں ہے

ہاتھ اٹہا کے جو مانگی گئ دعا

دوستی کا اصر ا۔ن دعاؤں میں ہے

2008 اپریل 7

منجانب ڈاکٹر کاشف

Tairi kaushish tairi tadbeer hona chaahta hoo'n...
Mai'n tairay haatho'n ki tehreer hona chaahta hoo'n...
Tu mairay paas aa k bhi palat kar na jaaey...
Mai'n tairay paaoo'n ki zanjeer hona chaahta hoo'n...
Mujhay haajat nahee'n ab doosro'n k mashwaro'n ki...
Mai'n khud bhi shaahid-e-taqdeer hona chaahta hoo'n...
Azal say khuwaab ban kar tairi aankho'n may raha hoo'n...
Mai'n ab sharminda-e-ta'beer hona chaahta hoo'n...
Mai'n is liyay masmaar khud ko kar raha hoo'n...
K us k haatho'n hee ta'meer hona chaahta hoo'n..!
تیری کوشش تیری تدبیرہونا چاہتا ہوں
میں تیرے ہاتھوں کی تحریر ہونا چاہتا ہوں
تو میرے پاس آ کے بھی پلٹ کر نہ جاۓ
میں تیرے پاؤ کی زنجیر ھونا چاہتا ہوں
مجھے حاجت نہیں اب دوسروں کے مشوروں کی
میں خود بھی شاہد تقدر ہونا چاہتا ہوں
اذل سے خواب بن کر تیری آنکھوں میں رہا ہوں
میں اب شرمندہ بعبیر ہونا چاہتا ہوں
میں اس لیے مسمار خود کو کر رہا ہوں
کہ اس کے ہاتھوں کی تعمیر ہونا چاہتا ہوں

2008 اپریل 5

ہمدردی

ٹہنی پہ کسی شجر کی تنہا
بلبل تھا کوئ اداس بیٹھا

کہتا تھا کہ رات سر پہ آئ
اڑنے چگنے میں دن گزارا

پہنچوں کس طرح آشیاں تک
ہر چیز پہ چھا گیا اندھیرا

سن کر بلبل کی آہ و زاری
جگنو کوئ پاس ہی سے بولا

حاضر ہوں مدد کو جان و دل سے
کیڑا ہوں اگرچہ میں ذرا سا

کیا غم ہے جو رات ہے اندھیری
میں راہ میں روشنی کروں گا

اللہ نے دی ہے مجھ کو مشعل
چمکا کے مجھے دیا بنایا

ہیں لوگ وہی جہاں میں اچھے
آتے ہیں جو کام دوسرں کے

بچے کی دعا

لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میری
زندگی ‏شمح کی صورت ہو خدایا میری

دور دنیا کا میرے دم سے اندھیرا ہو جا‎ۓ
ہر جگہ میرے چمکنے اجالا ہو جاۓ

ہو میرے دم سے یونہی میرے وطن کی زینت
جس طرح پھول سے ہوتی ہے چمن کی زینت

زندگی ہو مری پروانے کی صورت یا رب
علم کی شمح سے ہو مجھ کو محبت یا رب

ہو میرا کام غریبوں کی حمایت کرنا
دردمندوں سے ضعیفوں سے محبت کرنا

میرے اللہ! برئ سے بچانا مجھ کو
نیک جو راہ ہو اس رہ پہ چلانا مجھ کو

ميں بہت دنوں سے اداس ہوں٬ مجھے کوئى شام ادھار دو

ميں بہت دنوں سے اداس ہوں٬ مجھے کوئى شام ادھار دو

مجھےاپنےروپ کى دھوپ دوکہ چمک سکيںمرےخال وخد
مجھےاپنے رنگ ميں رنگ دو٬ مرے سارے زنگ اتار دو

کسى اورکو مرےحال سے نہ غرض ہے نہ کوئى واسطہ
ميں بکھر گيا ہوں سميٹ لو٬ ميں بگڑ گيا ہوں سنوار دو

مرى وحشتوں کو بڑھا ديا ہے جدائيوں کےعذاب نے
مرے دل پہ ہاتە رکھو ذرا٬مرى دھڑکنوں کو قرار دو

تمہيں صبح کيسى لگى کہو٬مرى خواہشوں کے ديار کى
جو بھلى لگى تو يہيں رہو٬ اسے چاہتوں سے نکھار دو

وہاں گھر ميں کون ہے منتظر٬ کہ ہو فکر دير سويرکى
بڑى مختصر سى يہ رات ہے اسے چاندنى ميں گزار دو

کوئى بات کرنى ہے چاند سے کسى شاخسارکى اوٹ ميں
مجھے راستے ميں يہيں کہيں کسى کنج گُل ميں اُتار دو

یسے بتائوں میں تمیھں میرے لئے تم کون ہوں؟

یسے بتائوں میں تمیھں میرے لئے تم کون ہوں؟

کیسے بتائوں میں تمیھں

تم دھڑکنوں کا گیت ہو

جیون کا تم سنگیت ہو

تم زندگی

تم بندگی

تم روشنی

تم تازگی

تم ہر خوشی

تم پیار

ہوتم پریت

ہو من ِمیت ہو

آنکھوں میں تم

یادوں میں تم

سانسوں میں تم

آہوں میں تم

نیندوں میں تم

خوابوں میں تم

تم ہو میری ہر بات میں

تم ہو میرے دن رات میں

تم صبح میں

تم شام میں

تم سوچ میں

تم کام میں

میرے لئے پانا بھی تم

میرے لئے کھونا بھی تم

میرے لئے ہسنا بھی

تممیرے لئے رونا بھی تم

اور جاگنا سونا بھی تم

جائو کہیںدیکھوں کہیںتم ہو وہاں

تم ہو وہی

کیسے بتائوں میں تمھیں؟

تم بن تو میں کچھ بھی نہی

کیسے بتائوں میں تمھیں؟

میرے لئے تم کون ہو؟

یہ جو تمھارا روپ ہے

یہ زندگی کی دھوپ ہے

چندن سے ترشا ہے

بدنبہتی ہے جسم ایک اگن

یہ شوخیاں

یہ مستیاں

تم کوہوائوں سے ملی

زولفیں کھٹائوں سے ملیں

ہونٹوں میں کلیاں کھل گئیں

آنکھوں کو جھیلیں مل گئیں

چہرے میں سمٹی چاندنی

آواز میں ہے راگنی

شیشے کے جیسا انگ ہے

پھولوں کے جیسا رنگ ہے

ندیوں کے جیسے چال ہے

کیا حسن ہےکیا حال ہے

کسی کا خیال

وہ جو دور نگر جاتے ہیں

پھر کب وہ لوٹ کے آتے ہیں

بالکل تنہا کر دیتے ہیں

ساری خوشیاں لے جاتے ہیں

نہیں*رکھتے پھر کوئی خیر خبر

ایسے کیوں روٹھ کے جاتے ہیں

کبھی یادوں میں ، کبھی سپنوں میں

آنسو بن کے بس جاتے ہیں

ملنے کی بھی کوئی آس نہیں

جانے کس دیس کو جاتے ہیں

وہ جو دور نگر کو جاتے ہیں

اک دعا

اس سے پہلے کہ يہ دنيا مجھے رسوا کر دے
تو ميرے جسم ميری روح کو اچھا کر دے

کس قدر ٹوٹ رہی ہے ميری وحدت مجھ سے
اے ميری وحدتوں والے مجھے يکجا کر دے

يہ جو حالت ہے ميری ميں نے بنائ ہے مگر
جيسا تو چاہتا ہے اب مجھے ويسا کر دے

ميرے ہر فيصلے ميں تيری رضا شامل ہو
جو تيرا حکم ہو وہ ميرا ارادہ کر دے

مجھ کو وہ علم سکھا جس سے اجالے پھيلے
مجھ کو وہ اسم پڑھا جو مجھے ذندہ کر دے

ضائع ہونے سے بچا لے ميرے محبوب مجھے
يہ نہ ہو وقت مجھے کھيل تماشا کر دے

ميں مسافر ہوں سو رستے مجھے راس آۓ ہيں
ميری منزل کو ميرے واسطے رستہ کر دے

2008 اپریل 4

احمد فراز اور فراز احمد

Dost ban kar bhii nahin saath nibhaanevaalaa

vahii andaaz hai zaalim kaa zamaanevaalaa

ab ise log samajhate hain giraftaar meraa

saKht nadim hai mujhe daam mein laanevaalaa

kyaa kahen kitne maraasim the hamaare is se

vo jo ik shaKhs hai muuh pher ke jaanevaalaa

tere hote hue aa jaatii thii saarii duniyaa

aaj tanhaa hun to koi nahin aanevaalaa

muntazir kis kaa hun Tutii hui dahaliiz pe main

kaun aayegaa yahan kaun hai aanevaalaa

main ne dekhaa hai bahaaron mein chaman ko jalate

hai koi Khvaab kii taabiir bataanevaalaa

kyaa Khabar thii jo merii jaan mein ghulaa hai itanaa

hai vahii mujh ko sar-e-daar bhii laane vaalaa

tum taqalluf ko bhii ikhalaas samajhate ho ‘Faraz’

dost hotaa nahin har haath milaanevaalaa

-Ahmad Faraz.

دوست بن کر بھی نہین ساتھ ننبھانے والا

وہی انداز یے ظالم کا زمانے والا

اب اسے لوگ سمجھتے ہیں گرفتار میرا

سخت نادم ہے مجھے دم میں لانے والا

کیا کہیں کتنے مراسم تھے ہمارے اس سے

وہ جو اک شخص ہے منہ پھیر کے جانے والا

تیرے ہوتے ہوے آجاتی تھی ساری دنیا

آج تنہا ہوں تو کوئی نہیں آنے والا

منتظر کس کا ہوں ٹوٹی ہوئ دہلیز پے میں

‎کوں آ‎ۓ گا کہاں کوں یے آنے والا

میں نے دیکھا یے بہاروں میں چمں کو جلتا

ہے کوئ خواب کی تعبیر بتانے والا

کیا خبر تھی جو میری جان میں گھلا یے اتنا

یے وہی مجھ کو سر(ی) دار بھی لانے والا

تم تکلف کو بھی اخلاص سمجھتے ھو 'فراز'

دوست ہوتے نہیں ہر ہاتھ ملانے والا

احمد فراز